اوپن اے آئی کے جدید ترین امیج جنریٹر ”GPT-4o“ نے مارکیٹنگ کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے، جس کے ذریعے کاروبار اب بغیر کسی ماڈل، فوٹوگرافر یا گرافک ڈیزائنر کی خدمات حاصل کیے اعلیٰ معیار کے اشتہاری مواد تیار کر سکتے ہیں۔

یہ ٹول گزشتہ ہفتے متعارف کرایا گیا اور محدود تعداد میں مفت دستیاب ہے، جس نے عام صارفین کو اپنی خاندانی تصاویر کو اسٹوڈیو گِبلی اسٹائل کے فن پاروں میں تبدیل کرنے کا موقع دیا۔ تاہم، اشتہاری صنعت پر اس کے اثرات زیادہ نمایاں رہے، جہاں پروڈکٹ پوسٹرز اور ویڈیوز نے ریونیو کا ایک بڑا حصہ تشکیل دیا۔

’آپ کا چہرہ استعمال ہوسکتا ہے‘: ماہرین گبلی تصاویر بنانے والوں کو خبردار کردیا

اب کاروباری حضرات اور پروڈکٹ مالکان بغیر کسی اضافی لاگت یا زیادہ سے زیادہ 20 ڈالر کے ChatGPT Plus سبسکرپشن کے ذریعے اشتہاری مواد بنا سکتے ہیں۔

اس پیش رفت نے تشویش بھی پیدا کر دی ہے کہ ہزاروں ماڈلز، فوٹوگرافروں، ویڈیو ایڈیٹرز اور ڈیزائنرز کا روزگار متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ اے آئی تخلیقی شعبوں میں روایتی ملازمتوں کی جگہ لے رہا ہے۔

اے آئی سے تیار کردہ اشتہارات کی جدت

GPT-4o کی مدد سے صارفین کسی بھی موجودہ پوسٹر میں پروڈکٹ کی تصویر بدل سکتے ہیں اور سادہ انگریزی ہدایات کے ذریعے اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ یہ فیچر بے مثال مستقل مزاجی فراہم کرتا ہے اور اس سے پہلے کے اے آئی ماڈلز میں موجود ٹیکسٹ رینڈرنگ کے مسائل کو بھی حل کرتا ہے۔

کم لاگت اور زیادہ کارکردگی

خاص طور پر چھوٹے کاروبار اب اپنے اشتہاری مواد کو خود تیار کر سکتے ہیں، جس سے مہنگے تخلیقی ماہرین پر انحصار کم ہو جائے گا۔

ایپل کے کونسے فونز نئے ’آئی او ایس 19‘ پر اپڈیٹ ہونے سے محروم رہیں گے؟

یہ ٹول انفوگرافکس، پروڈکٹ میک اپس، اور درست ٹیکسٹ پلیسمنٹ کے ساتھ لوگو بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

تخلیقی صنعت پر اثرات

GPT-4o جہاں ڈیزائننگ کو عام افراد کے لیے قابلِ رسائی بنا رہا ہے، وہیں یہ تخلیقی پیشوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔

جیسے جیسے اے آئی ترقی کر رہا ہے، مختلف صنعتوں کو اس تیزی سے بدلتے منظرنامے میں خود کو ڈھالنا ہوگا۔

More

Comments
1000 characters