امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر عائد کیے گئے نئے ٹیرف کے باعث عالمی تجارت میں بڑی تبدیلی متوقع ہے، جبکہ صارفین کو قیمتی اشیاء، خاص طور پر آئی فونز، کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایپل نے ٹیرف کے بوجھ کو صارفین پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تو آئی فونز کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔

ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی مؤخر کر دی، معاہدے کے لیے 75 دن کی توسیع

ایپل کے زیادہ تر آئی فونز چین میں تیار ہوتے ہیں، جہاں اب 54 فیصد ٹیرف لاگو کیا گیا ہے، جس کے بعد ایپل ایک نازک فیصلہ کن صورتحال سے دوچار ہے: یا تو وہ خود یہ اخراجات برداشت کرے یا قیمتیں بڑھا دے۔

روزن بلیٹ سیکیورٹیز کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر ٹیرف کا اثر صارفین پر منتقل کیا گیا تو آئی فون 16 کے بیس ماڈل کی قیمت جو پہلے 799 ڈالر تھی، 43 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 1142 ڈالر ہو جائے گی۔ اسی طرح آئی فون 16 پرو میکس، جو اس وقت 1599 ڈالر کا ہے، 43 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 2300 ڈالر تک پہنچ سکتا ہے — جو قیمت فولڈ ایبل فونز جیسے گلیکسی زی فولڈ کے برابر ہو جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایپل کو تقریباً 39.5 ارب ڈالر کے اضافی ٹیرف اخراجات کا سامنا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے کمپنی اپنی دیگر مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھا سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، ایپل واچز کی قیمتوں میں 43 فیصد، آئی پیڈز میں 42 فیصد، جبکہ ایئر پوڈز اور میک کمپیوٹرز کی قیمتوں میں 39 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔

ٹرمپ کے ٹیرف اعلان کا اثر: وال اسٹریٹ کو کورونا بحران کے بعد بدترین دھچکا، سرمایہ کاروں کے کھربوں ڈوب گئے

ان ممکنہ اضافوں کی خبروں نے فوری طور پر ایپل کے مالیاتی پوزیشن پر بھی اثر ڈالا۔ جمعرات کو کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں 9.3 فیصد کمی واقع ہوئی، جو مارچ 2020 کے بعد ایک دن میں سب سے بڑی گراوٹ ہے۔

ایپل ہر سال 22 کروڑ سے زائد آئی فون فروخت کرتا ہے اور اب اسے امریکہ، چین اور یورپ جیسے بڑے منڈیوں میں سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں اس قدر اضافہ ہوا تو صارفین کی دلچسپی متاثر ہو سکتی ہے اور ایپل کی فروخت پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

More

Comments
1000 characters