ہاتھ ملاتے یا دروازے کی دستک کو چھوتے وقت آپ نے معمولی طرز کا بجلی کا ایک چھوٹا جھٹکا محسوس کیا ہوگا۔ یہ ایک حیران کن لیکن بے ضرر احساس ہے۔ لیکن اس کرنٹ لگنے کا کیا سبب ہے آپ کو معلوم ہے؟
اچانک کرنٹ لگنے کا احساس نقصان دہ نہیں ہے، لیکن یہ حیران کن ہو سکتا ہے۔
اس رجحان کی ایک بہت ہی دلچسپ سائنسی وضاحت ہے۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ کرنٹ کیسے پیدا ہوتا ہے، آپ کے جسم سے الیکٹرک بجلی کیسے نکالی جاتی ہے، اور اس کا آپ کی روزمرہ کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔
جسم کو بار بار بجلی کے کرنٹ محسوس ہونے کی ایک عام وجہ جامد بجلی (Static Electricity) ہے۔
اسٹیٹک الیکٹرک سٹی کیا ہے؟
اسٹیٹک انرجی کا معاملہ اس وقت پیش آتا ہے جب آپ کے جسم پر یا آپ کی جلد پر مثبت یا منفی چارج جمع ہو جاتا ہے، اور جب آپ کسی چیز یا شخص کو چھوتے ہیں، تو یہ چارج خارج ہو کر ایک جھٹکے یا کرنٹ کی صورت میں محسوس ہوتا ہے۔
منزلہ عمارت جتنا سیارچہ چاند سے ٹکرانے کے قریب
جامد بجلی اس وقت ہوتی ہے جب آپ کے جسم یا کسی چیز پر برقی چارجز جمع ہوجاتے ہیں۔ یہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب دو چیزیں آپس میں رگڑتی ہیں، جیسے آپ کے موزے قالین پر رگڑ کھاتے ہیں جس سے جامد بجلی کا اخراج ہوتا ہے۔ رگڑ آپ کے جسم میں قالین سے الیکٹران نامی چھوٹے ذرات کو منتقل کرتا ہے، جس سے جامد بجلی پیدا ہوتی ہے۔
اے آئی نے من مانی شروع کردی، صارف کو طعنے دینے لگا
جامد بجلی اس وقت نکلتی ہوتی ہے جب کسی چیز کی سطح پر برقی چارج بنتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آبجیکٹ کے ایٹم الیکٹران نامی چھوٹے ذرات حاصل کرتے یا کھو دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں مثبت یا منفی چارج پیدا ہوتا ہے۔
اس کی ممکنہ وجوہات اور حل
خشک موسم یا ہوا: کرنٹ لگنے کا احساس زیادہ تر خشک موسم میں ہوتا ہے یا جہاں ہوا میں نمی کم ہوتی ہے، جس سے جامد بجلی زیادہ بنتی ہے۔
نائلون، پولییسٹر، یا مصنوعی کپڑے جامد بجلی پیدا کرتے ہیں۔ ربڑ، قالین یا لکڑی کے فرش پر چلنے سے جامد چارج زیادہ بنتا ہے۔ حرکت یا دوڑنے سے چارج زیادہ پیدا ہو سکتا ہے۔ کمپیوٹرز، فریج یا دیگر برقی آلات بھی اس چارج میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
نمی برقرار رکھیں:
گھر یا دفتر میں ہوا کو نم رکھنے کے لیے ہمیڈیفائر استعمال کریں۔
کاٹن کے کپڑے پہنیں:
مصنوعی کپڑوں کے بجائے کاٹن کے کپڑے استعمال کریں۔
فرش پر محتاط رہیں:
ربر سول والے جوتے پہننے کی کوشش کریں۔