عالمی سطح پر شہرت پانے والی معمر مصری طالبہ زبیدہ عبدالعال 89 برس کی عمر میں چل بسیں۔ انہوں نے دو برس قبل معمر طالبہ کے لقب سے اس وقت شہرت پائی جب انجیلینا جولی نے ان کی فوٹو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کی اور تعلیم سے ان کی محبت کوسراہا ۔

العربیہ نیوز کے مطابق مصر کی المنوفیہ کمشنری کی معمر خاتون ’زبیدہ عبدالعال‘ نے سال 2022 کے آخر میں تعلیم بالغاں کے ادارے میں داخلہ لیا اور 2024 کی ابتدائی سہہ ماہی میں پرائمری کلاس پاس کرلی۔

جس برس زبیدہ نے پرائمری کلاس امتیازی نمبروں سے پاس کی اس وقت ان کی عمر 87 برس تھی جس پر میڈیا نے ان کے جذبے کو سراہا اور امتحان دیتے ہوئے ان کی تصاویر شائع کیں جن سے متاثرہوتے ہوئے انجیلینا جولی نے بھی ’معمرطالبہ‘ کے عنوان سے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

عالمی ادارے کی جانب سے سراہے جانے پر زبیدہ عبدالعال کو بہت جلد شہرت حاصل ہو گئی اور متعدد ذرائع ابلاغ نے ان تصاویر کوشائع کیا۔

پرائمری کا امتحان پاس کرنے پر معمر طالبہ نے العربیہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہیں شروع سے ہی تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا مگر والد ہمیشہ سے ہی لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف تھے جس کی وجہ سے انہوں نے کبھی اجازت نہیں دی۔

خاتون کا کہنا تھا کہ انکی شادی 18 برس کی عمر میں کردی گئی جس کی وجہ سے علم حاصل کرنے کا شوق حالات کی نذر ہوگیا اور وقت گزرتا گیا۔

زبیدہ نے والد کے انتقال کے بعد اپنی چھوٹی بہنوں کو بھائیوں کے ساتھ پڑھنے کا مشورہ دیا اور ان کے ساتھ کھڑی رہی تاکہ ان میں حصولِ علم کے شوق کو بڑھاوا دے سکیں۔

خاتون کا کہنا تھا کہ وہ ایک کم آمدنی والے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اسی لیے اپنے بچوں کو جس اسکول میں داخل کرایا اس کے سامنے ٹھیلا لگایا کرتی تاکہ اس امر کو یقینی بنا سکوں کہ بچے روزانہ سکول جا رہے ہیں۔

انجیلینا جولی کی پوسٹ کے بارے میں معمر طالبہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم وہ کون ہیں تاہم جب پوتے نے اس بارے میں مجھے بتایا تو یہ سب دیکھ کر بہت اچھا لگا۔

سال 2022 میں جب تعلیم بالغاں کی سکیم آئی تو اس میں داخلہ لے لیا اور ابتدائی جماعت کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ ’علم حاصل کرنے کی کوئی عمر یا حد نہیں، انسان چاہے تو آخر وقت تک علم حاصل کرسکتا ہے۔

More

Comments
1000 characters