تتلیاں، کیڑے خون اور بہت کچھ گھناؤنا۔۔۔ ایوارڈ یافتہ ریستوران کا مینیو تنقید کی زد میں
کوپن ہیگن کے ریفشالون ضلع میں واقع ”الکیمسٹ“ ریستوران، جو اپنے انوکھے اور تخلیقی کھانوں کے لئے مشہور ہے، ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ شیف راسمس منک کی زیرقیادت اس ریستوران نے دو مِشلِن اسٹار حاصل کر رکھے ہیں اور یہاں کا کھانا محض کھانا نہیں بلکہ ایک تجربہ ہے جو گیسٹرونومی، آرٹ، تھیٹر اور ملٹی میڈیا کو یکجا کرتا ہے۔ اس ریستوران میں پیش کیے جانے والے کھانے عالمی مسائل جیسے کھانے کی کمی، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی انصاف کو تخلیقی انداز میں اجاگر کرتے ہیں۔
حال ہی میں ایک انسٹاگرام ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک مہمان نے اس مشہور ریستوران میں اپنے پانچ گھنٹے طویل کھانے کا تجربہ شیئر کیا۔
اس ویڈیو میں اس مہمان نے بتایا کہ اس نے مئی 2024 میں 700 ڈالر (تقریباً 2 لاکھ روپے) میں یہ کھانا کھایا۔
ویڈیو میں دکھایا گیا کہ اس کا آغاز ”گلو روم“ سے ہوا جہاں مشروبات اور چھوٹے نوالے پیش کیے گئے، جن میں ”کروچی آکسیڈائزڈ ایپل جوس“ بھی شامل تھا۔
ویڈیو میں سب سے زیادہ توجہ جس کورس نے حاصل کی وہ ”کھانے کے قابل تتلیاں“ تھیں۔
مہمان نے بتایا کہ سرور نے انہیں بتایا یہ تتلیاں فارمنگ کی گئی ہیں اور یہ جاندار انرجی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے بعد مہمان نے بتایا کہ وہ مین ڈائننگ روم میں منتقل ہو گئے جہاں ”سرریئل پروجیکشنز“ ان کے کھانے کے دوران چھت پر دکھائی جا رہی تھیں۔
ویڈیو میں مختلف کورسز کی تفصیل بھی دی گئی، جن میں کچی جیلی فش، مچھلی جو کھانے کے قابل پلاسٹک میں لپٹی ہوئی تھی (جو سمندری آلودگی کے بارے میں آگاہی بڑھانے کا مقصد رکھتی تھی)، اور چکن کا سر جس پر کھٹا کریم تھا شامل تھے۔ ایک اور کورس میں زندہ کیڑے کے ساتھ پنیر بھی پیش کیا گیا تھا اور کچھ دیگر مٹھائیاں مشہور فن پاروں سے متاثر ہو کر تیار کی گئی تھیں۔
ویڈیو دیکھنے والے کئی افراد نے ان کھانوں کو ”بے وقوفانہ“ اور ”جعلی“ قرار دیا، جب کہ کچھ نے ان منفرد پیشکشوں کو تخلیقی تسلیم کیا لیکن کچھ چیزوں جیسے تتلیوں اور کیڑے والے کھانے کو غیر پسندیدہ سمجھا۔
انسٹاگرام پر لوگوں کی مختلف آراء سامنے آئیں جن میں سے کچھ نے اس تخلیقی تجربے کو پسند کیا، جبکہ دیگر نے اسے ”ناقابل برداشت“ قرار دیا۔
”الکیمسٹ“ کا یہ تجربہ نہ صرف اپنے انوکھے کھانوں کے لئے مشہور ہے بلکہ اس میں عالمی مسائل پر بات کرنے کا ایک الگ ہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے، جس کے بارے میں لوگوں کی رائے مختلف ہے۔